میں وعدوں کا قیدی ہوں عہد سے مکر نہیں سکتا ازقلم: محمد اطہر طاہر
لنک حاصل کریں
Facebook
X
Pinterest
ای میل
دیگر ایپس
تبصرے
اس بلاگ سے مقبول پوسٹس
زندگی آزار سہی زندگی آزار سہی جینا دشوار سہی طے تو کرنا ہوگا سفر گراں بار سہی سکونِ قلب و نظر کہیں تو میسر ہو درِ یار نہیں تو کیا، تختہءِ دار سہی ازقلم: محمد اطہر طاہر ھارون آباد
تمہی وہ اک مسیحا ہو تمہی وہ اک مسیحا ہو جو میرے دل کی دھڑکن کو ذرا ترتیب دیتے ہو میں جب بھی ٹوٹ جاتا ہوں تو تیرا مرہمی لہجہ مجھے پھر جوڑ دیتا ہے تیرا چہرہ تیری صورت شفاءِ دردِ دل بن کر میرے رِستے زخموں پر یوں شبنم گراتی ہے جیسے روح لوٹ آتی ہے تحریر: محمد اطہر طاہر
میں تیری محبت کو طلاق لکھ رہی ہوں ہر اک خواہش ہر تمنا کو خاک لکھ رہی ہوں میں تیری محبت کو طلاق لکھ رہی ہوں صدیوں کی بے معنی رفاقت کا جنازه نکال کر میں ہوں باغی محبت سے بے باک لکھ رہی ہوں محبت کے نام پر ہیں یہ نامحرموں کے دھوکے میں نسل نو کے واسطے اسباق لکھ رہی ہیں خوش رنگ تتلیاں بے بال و پر ہیں کیوں کر کلی ہوتی ہے آخر کیوں خس و خاشاک لکھ رہی ہوں عصمت جو بچ سکے نہ کچھ رہتا نہیں باقی میں جھوٹی لذتوں کو ناپاک لکھ رہی ہوں میری بہنوں بچ کے رہنا نہ زندہ لاش ہونا یہ معاشرہ ہے کتنا سفاک لکھ رہی ہوں نوٹ: یہ غزل بہنوں کیلئے مؤنث صیغہ میں لکھی گئی ہے جبکہ تخلیق محمد اطہر طاہر کی ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں