میں مبتلائے عشق تھا تو عشق تھا غرور میں عشق کو جب عشق ہوا تو عشق اندھا ہو گیا.. ازقلم: محمد اطہر طاہر
لنک حاصل کریں
Facebook
X
Pinterest
ای میل
دیگر ایپس
تبصرے
اس بلاگ سے مقبول پوسٹس
زندگی آزار سہی زندگی آزار سہی جینا دشوار سہی طے تو کرنا ہوگا سفر گراں بار سہی سکونِ قلب و نظر کہیں تو میسر ہو درِ یار نہیں تو کیا، تختہءِ دار سہی ازقلم: محمد اطہر طاہر ھارون آباد
ضبط کی حد ہے تشنگی دلِ مضطر کی میں بجھاؤں کیسے؟ کتنا درد ہے اس دل میں، میں بتاؤں کیسے؟ وہ غیر کے پہلو میں، ضبط کی حد ہے اطہر دل تو کہتا ہے مگر حد سے گزر جاؤں کیسے؟ ازا
میرادل چاہتا ہے یہ میں آنکھیں نوچ لوں اپنی کہ ان میں تیرے سپنے تھے جو تیرے خواب دیکھے تھے یادیں کھرچ دوں دل سے فنا کردوں میں ہستی کو جلادوں دل کی بستی کو لبوں کو چیر ڈالوں میں ان پہ تیرے نغمے ہیں جو تیرا نام لیتے ہیں زباں کو کھینچ دوں جڑ سے جو لبوں کا ساتھ دیتی ہے رگوں کو تارتار کروں کہ ان میں تم ہی بہتے تھے مٹادوں خال و خد اپنے تیرے لیے دمکتے تھے مگر اس روح کا میں کیا کروں کیسے کھینچوں اسے بدن سے اس پہ بس نہیں میرا میری تو روح ہی تم ہو تمہیں نے تو راہ بدلی ہے تمہاری چاہ بدلی ہے میرادل بھی بدل دیتے میرا دل کیوں نہیں بدلا تخیلق: محمد اطہر طاہر Haroonabad
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں