میں مبتلائے عشق تھا تو عشق تھا غرور میں عشق کو جب عشق ہوا تو عشق اندھا ہو گیا.. ازقلم: محمد اطہر طاہر
لنک حاصل کریں
Facebook
X
Pinterest
ای میل
دیگر ایپس
تبصرے
اس بلاگ سے مقبول پوسٹس
پانچواں دسمبر "پانچواں دسمبر" صنم تیری جدائی کا یہ پانچواں دسمبر ہے تیرے میرے بیچ میں یہ ساتواں سمندر ہے میری تیرہ بختی کا وہ دو ہزار تیرہ تھا صد ہزار سالوں کا یہ پانچواں دسمبر ہے ازقلم: محمد اطہر طاہر ھارون آباد
ضبط کی حد ہے تشنگی دلِ مضطر کی میں بجھاؤں کیسے؟ کتنا درد ہے اس دل میں، میں بتاؤں کیسے؟ وہ غیر کے پہلو میں، ضبط کی حد ہے اطہر دل تو کہتا ہے مگر حد سے گزر جاؤں کیسے؟ ازا
ہر یاد کو میں نے جلا دیا تیری تحریریں سب تصویریں ہر یاد کو میں نے جلا دیا تیری آبرو پر آنچ نہ آئے کوئی تم پر انگلی نہ اٹھائے اپنے دل کو پتھر کرکے میں نے خود کو فنا کیا ہر یاد کو میں جلا دیا ازقلم: اطہر طاہر ھارون آباد
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں