زندگی آزار سہی جینا
دشوار سہی
طے تو کرنا ہوگا سفر گراں بار سہی
سکونِ قلب و نظر کہیں تو میسر ہو
درِ یار نہیں تو کیا،
تختہءِ دار سہی
ازقلم: محمد اطہر طاہر
ھارون آباد
لنک حاصل کریں
Facebook
X
Pinterest
ای میل
دیگر ایپس
تبصرے
اس بلاگ سے مقبول پوسٹس
تم نے بھول جانے کا ہنر کہاں سے سیکھا ہے تم نے بھول جانے کا ہنر کہاں سے سیکھا ہے تلخ بھی بول لیتے ہو ساتھ چھوڑ دیتے ہو ذات توڑ کر میری بات چھوڑ دیتے ہو، ہم نے تو تمہاری چاہ میں عشق کی اندھی راہ میں ہر نسخہ آزمایا ہے ضبط کر کےبھی دیکھا ہے صبر کر کے بھی دیکھا ہے اپنی ذات پر ہم نے جبر کرکے بھی دیکھا ہے میں نے عظیم اسموں کا ذکر کر کے بھی دیکھا ہے تم کو بھول جانے کی کوئی تدبیر نہ کام آئی ہر عزم و تمنا ہار گئی ہر کاوش بیکار گئی ازقلم: محمد اطہر طاہر ھارون آباد
تیرے سر کا تاج نہیں تو کیا تیرے نقشِ پا کی خاک تھا وہی خاک ہی ہوں آج بھی میرا وجودِ خاک کہیں سہی تیرے نام ہی ہوں آج بھی تیرے سر کا تاج نہیں تو کیا تیرا کل تھا آج نہیں تو کیا مجھے روند دے یا مسل دے تیرے ہاتھ ہی ہوں آج بھی ازقلم: محمد اطہر طاہر ھارون آباد
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں