اے خدا میری چندا سلامت
رہے
ہنستی مسکراتی تا قیامت رہے
مقدر اسکا چمکے جیسے سحر و قمر
شادمانی چہرے کی علامت
رہے
ازقلم: محمد اطہر طاہر
ھارون آباد
لنک حاصل کریں
Facebook
X
Pinterest
ای میل
دیگر ایپس
تبصرے
اس بلاگ سے مقبول پوسٹس
زندگی آزار سہی زندگی آزار سہی جینا دشوار سہی طے تو کرنا ہوگا سفر گراں بار سہی سکونِ قلب و نظر کہیں تو میسر ہو درِ یار نہیں تو کیا، تختہءِ دار سہی ازقلم: محمد اطہر طاہر ھارون آباد
تم نے بھول جانے کا ہنر کہاں سے سیکھا ہے تم نے بھول جانے کا ہنر کہاں سے سیکھا ہے تلخ بھی بول لیتے ہو ساتھ چھوڑ دیتے ہو ذات توڑ کر میری بات چھوڑ دیتے ہو، ہم نے تو تمہاری چاہ میں عشق کی اندھی راہ میں ہر نسخہ آزمایا ہے ضبط کر کےبھی دیکھا ہے صبر کر کے بھی دیکھا ہے اپنی ذات پر ہم نے جبر کرکے بھی دیکھا ہے میں نے عظیم اسموں کا ذکر کر کے بھی دیکھا ہے تم کو بھول جانے کی کوئی تدبیر نہ کام آئی ہر عزم و تمنا ہار گئی ہر کاوش بیکار گئی ازقلم: محمد اطہر طاہر ھارون آباد
تیرے سر کا تاج نہیں تو کیا تیرے نقشِ پا کی خاک تھا وہی خاک ہی ہوں آج بھی میرا وجودِ خاک کہیں سہی تیرے نام ہی ہوں آج بھی تیرے سر کا تاج نہیں تو کیا تیرا کل تھا آج نہیں تو کیا مجھے روند دے یا مسل دے تیرے ہاتھ ہی ہوں آج بھی ازقلم: محمد اطہر طاہر ھارون آباد
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں