تشنگی دلِ مضطر کی میں
بجھاؤں کیسے؟
کتنا درد ہے اس دل میں، میں بتاؤں کیسے؟
وہ غیر کے پہلو میں، ضبط کی حد ہے اطہر
دل تو کہتا ہے مگر حد سے گزر جاؤں کیسے؟
ازا
لنک حاصل کریں
Facebook
X
Pinterest
ای میل
دیگر ایپس
تبصرے
اس بلاگ سے مقبول پوسٹس
ہر یاد کو میں نے جلا دیا تیری تحریریں سب تصویریں ہر یاد کو میں نے جلا دیا تیری آبرو پر آنچ نہ آئے کوئی تم پر انگلی نہ اٹھائے اپنے دل کو پتھر کرکے میں نے خود کو فنا کیا ہر یاد کو میں جلا دیا ازقلم: اطہر طاہر ھارون آباد
زندگی آزار سہی زندگی آزار سہی جینا دشوار سہی طے تو کرنا ہوگا سفر گراں بار سہی سکونِ قلب و نظر کہیں تو میسر ہو درِ یار نہیں تو کیا، تختہءِ دار سہی ازقلم: محمد اطہر طاہر ھارون آباد
کمنٹ کرنا ختم ٹیگ لگانا ختم کمنٹ کرنا ختم ٹیگ لگانا ختم تیری ٹائم لائن پہ اب آنا جانا ختم سرچ کرنا تجھے فرینڈ لسٹ ٹٹولنا تیرے فرینڈز کو میوچل بنانا ختم تیرے ظلم و ستم ہر جفا الوداع تیرے لفظوں کو دل سے لگانا ختم ازقلم: محمد اطہر طاہر ھارون آباد
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں