متفرق اشعار وہ قابل چار حرفوں کا ہم دیوان لکھتے رہ گئے *** تو میری وفا کی لاج رکھ میرا عشق تم پر تمام شد *** تیرے نال جد یاری نیں رہیی سانوں وی جند پیاری نیں رہیی *** کی لکھاں تے کی پڑھاں کتاباں اُتے قابض توں ایں *** اس شہرِ اُلفت میں یہ بزمِ محبّت ہے اس بزم کی رونق کو اک تیری ضروت ہے *** وہ کہتی ہے مجھے اب کوئی خواہش نہیں رہی میں کہتا ہوں محترمہ یہ بڑھاپے کی نشانی ہے ازقلم: محمد اطہر طاہر کم ظرف کمظرف، تنگ نظر، بدگمان، خودغرض بہت چھوٹے ہیں یہ لفظ تیرے معیار سے ازقلم: محمد اطہر طاہر ھارون آباد دنیا بھی اشکبار ہوئی میرے الفاظ کو سُن کر دُنیا بھی اَشکبار ہوئی مگر وہ پتھر کا جگر ڈھل سکا نہ پگھل سکا ازقلم: محمد اطہر طاہر مجھے شاعر بنا ڈالا اک فائدہ تو ہوا ہمیں بھی ٹوٹ جانے کا وقت کے بہتے دھارے نے تجھے قائر بنا ڈالا ہمیں شاعر بنا ڈالا ازقلم: محمد اطہر طاہر
کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں کسی کے خواب بکھر جائیں کسی کی منزل کھو جائے کوئی ہنس ہنس کے جیتا ہو کوئی غم کے آنسو پیتا ہو گمشده سے بہتر مل جائے وقت جتنا بھی بدل جائے جذبات کو بدل نہ پائے یہ سب کتابی باتیں ہیں وقت زخموں کا مرہم ہے تا عمر رلانے والے بھی کچھ درد ایسے ہوتے ہیں تا حشر جگانے والے بھی کچھ خواب ایسے ہوتے ہیں کبھی مندمل نہیں ہوتے کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں قیامت تک نہیں بھرتے ہمیشہ تازہ رہتے ہیں کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو مرہم سے نہیں بھرتے نشتر سے شفا ہو جاتی ہے اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جو مرہم سے ہی لگتے ہیں اور موت کی آخری ہچکی کا سبب وہ زخم بنتے ہیں وہ برزخ تک لے جاتے ہیں کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں ازقلم: محمد اطہر طاہر ھارون آباد
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں