ہر یاد کو میں نے جلا دیا تیری تحریریں سب تصویریں ہر یاد کو میں نے جلا دیا تیری آبرو پر آنچ نہ آئے کوئی تم پر انگلی نہ اٹھائے اپنے دل کو پتھر کرکے میں نے خود کو فنا کیا ہر یاد کو میں جلا دیا ازقلم: اطہر طاہر ھارون آباد
زندگی آزار سہی زندگی آزار سہی جینا دشوار سہی طے تو کرنا ہوگا سفر گراں بار سہی سکونِ قلب و نظر کہیں تو میسر ہو درِ یار نہیں تو کیا، تختہءِ دار سہی ازقلم: محمد اطہر طاہر ھارون آباد
کمنٹ کرنا ختم ٹیگ لگانا ختم کمنٹ کرنا ختم ٹیگ لگانا ختم تیری ٹائم لائن پہ اب آنا جانا ختم سرچ کرنا تجھے فرینڈ لسٹ ٹٹولنا تیرے فرینڈز کو میوچل بنانا ختم تیرے ظلم و ستم ہر جفا الوداع تیرے لفظوں کو دل سے لگانا ختم ازقلم: محمد اطہر طاہر ھارون آباد
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں