تمہی وہ اک مسیحا ہو
تمہی وہ اک مسیحا ہو
جو میرے دل کی دھڑکن کو
ذرا ترتیب دیتے ہو
میں جب بھی ٹوٹ جاتا ہوں
تو تیرا مرہمی لہجہ
مجھے پھر جوڑ دیتا ہے
تیرا چہرہ تیری صورت
شفاءِ دردِ دل بن کر
میرے رِستے زخموں پر
یوں شبنم گراتی ہے
جیسے روح لوٹ آتی ہے
تحریر: محمد اطہر طاہر
پانچواں دسمبر "پانچواں دسمبر" صنم تیری جدائی کا یہ پانچواں دسمبر ہے تیرے میرے بیچ میں یہ ساتواں سمندر ہے میری تیرہ بختی کا وہ دو ہزار تیرہ تھا صد ہزار سالوں کا یہ پانچواں دسمبر ہے ازقلم: محمد اطہر طاہر ھارون آباد
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں