تمہی وہ اک مسیحا ہو
تمہی وہ اک مسیحا ہو
جو میرے دل کی دھڑکن کو
ذرا ترتیب دیتے ہو
میں جب بھی ٹوٹ جاتا ہوں
تو تیرا مرہمی لہجہ
مجھے پھر جوڑ دیتا ہے
تیرا چہرہ تیری صورت
شفاءِ دردِ دل بن کر
میرے رِستے زخموں پر
یوں شبنم گراتی ہے
جیسے روح لوٹ آتی ہے
تحریر: محمد اطہر طاہر
ضبط کی حد ہے تشنگی دلِ مضطر کی میں بجھاؤں کیسے؟ کتنا درد ہے اس دل میں، میں بتاؤں کیسے؟ وہ غیر کے پہلو میں، ضبط کی حد ہے اطہر دل تو کہتا ہے مگر حد سے گزر جاؤں کیسے؟ ازا
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں