تمہی وہ اک مسیحا ہو
تمہی وہ اک مسیحا ہو
جو میرے دل کی دھڑکن کو
ذرا ترتیب دیتے ہو
میں جب بھی ٹوٹ جاتا ہوں
تو تیرا مرہمی لہجہ
مجھے پھر جوڑ دیتا ہے
تیرا چہرہ تیری صورت
شفاءِ دردِ دل بن کر
میرے رِستے زخموں پر
یوں شبنم گراتی ہے
جیسے روح لوٹ آتی ہے
تحریر: محمد اطہر طاہر
زندگی آزار سہی زندگی آزار سہی جینا دشوار سہی طے تو کرنا ہوگا سفر گراں بار سہی سکونِ قلب و نظر کہیں تو میسر ہو درِ یار نہیں تو کیا، تختہءِ دار سہی ازقلم: محمد اطہر طاہر ھارون آباد
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں