ضبط کی حد ہے تشنگی دلِ مضطر کی میں بجھاؤں کیسے؟ کتنا درد ہے اس دل میں، میں بتاؤں کیسے؟ وہ غیر کے پہلو میں، ضبط کی حد ہے اطہر دل تو کہتا ہے مگر حد سے گزر جاؤں کیسے؟ ازا
آنکھیں ہی نکال کر لے گیا اک پل میں راکھ ہوگیا جو صدیوں کا سرمایہ تھا آنکھیں ہی نکال کر لے گیا وہ جو آنسو پونچھنے آیا تھا ازقلم: محمد اطہر طاہر ھارون آباد
زندگی آزار سہی زندگی آزار سہی جینا دشوار سہی طے تو کرنا ہوگا سفر گراں بار سہی سکونِ قلب و نظر کہیں تو میسر ہو درِ یار نہیں تو کیا، تختہءِ دار سہی ازقلم: محمد اطہر طاہر ھارون آباد
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں